Urdu Novels **Zandagi-dhop-tum-gahnasayia**

Back | Home |  
زندگی دھوپ تم گھنا سایہ……عفت سحر طاہر
’’عادل خدا کے لیے۔ آج یہ بات زبان پہ لائے ہو‘ آئندہ کبھی ایسا سوچنا بھی مت۔ اپنے باپ کو نہیں جانتے تم‘‘۔
آسیہ بیگم خوف سے زرد پڑ گئی تھیں۔
اکلوتا‘ لاڈلا بیٹا فرمائش بھی کررہا تھا تو کیسی……؟؟
چاند کو چھونے کی۔ انہونی کرنے کی۔
’’سب جانتا ہوں میں۔ مگر آپ بھی تو جانتی ہیں چچا جان کے ہاں کا ماحول‘ زہر لگی ہے مجھے ان کی ’’نوین‘‘۔
وہ آخر میں دانت پیس کر بولا تھا۔
’’جب جانتے ہو تو پھر کیوں مجھے تنگ کررہے ہو‘‘ وہ تھک سی گئیں۔
عادل نے لجاجت سے ماں کے دونوں ہاتھ تھام لیے۔
’’امی پلیز۔ آپ ایک بار تمکین سے مل کے تو دیکھیں۔ گرویدہ ہو جائیں گی اس طبیعت کی۔‘‘
’’میں جانتی ہوں میرے چاند۔‘‘ انہوں نے دونوں ہاتھوں میں کا چہرہ تھام کر کشادہ پیشانی چوم لی۔ پھر نم لہجے میں بولیں۔
’’میرا بیٹا کسی ایسی ویسی لڑکی کو پسند نہیں کرسکتا۔ مگر میری جان یہاں مسئلہ اور ہے۔ تمہارے ابو زبان دے چکے ہیں تمہارے چچا کو اور اب سے نہیں گزشتہ کئی سالوں سے یہ بات طے ہے۔‘‘
’’زبان ہی دی ہے نا۔ منگنی یا نکاح تو نہیں ہوانا۔‘‘ وہ ہٹ دھرمی سے کہنے لگا۔
’’اور پھر زندگی میری ہے امی جان اور مجھ سے انہوں نے کبھی پوچھنا بھی گوارہ نہیں کیا کہ میں اپنی زندگی میں کیسی لڑکی چاہتا ہوں‘‘
’’تو یہ سب باتیں آپ ابو سے کیوں نہیں کہتے۔ امی بیچاری کس کھاتے میں بھلا۔‘‘
روشین کے روکنے کے باوجود فرحین بولتی ہوئی امی کے کمرے میں داخل ہوئی تو عادل نے گھور کے اسے دیکھا۔ مگر وہ متاثر ہونے والوں میں سے نہیں تھی۔
’’ٹھیک کہہ رہی ہوں میں۔ انہیں کیوں مشکل میں ڈال رہے ہیں۔ یہ کبھی بھی ابو سے یہ بات نہیں کرسکتیں۔ آپ خود ان سے بات کریں کہ آپ مسمات نوین رضوان حیات سے بقائمی ہوش و حواس شادی سے

انکاری ہیں۔ انکار کی وجہ تسمیہ ضرور بتایئے گا۔پھر دیکھیے گا اپ کی بارات کتنی ’’دھوم دھام‘‘ سے نکلتی ہے۔‘‘
اس کے لب و لہجے سے جھلکتی تلخی اور طنز عادل کا منہ سرخ کرگیا جبکہ آسیہ بیگم نے اسے فوراً ہی ڈانٹ دیا۔
’’بکو مت۔ بڑا بھائی ہے تمہارا۔ یوں بات کرتے ہیں‘‘
’’اوفوہ۔ امی جی۔ آپ بھی کمال کرتی ہیں۔ حقیقت تو یہ بھی جانتے ہیں‘ پھر خوامخواہ میں گھر کو اکھاڑہ بنانے پہ کیوں تلے ہوئے ہیں‘‘۔ وہ قدرے جھنجلائی۔
’’تم……بی جمالو……‘‘ عادل نے دانت پیسے۔
’’جو مرضی چاہے کہہ لیں۔ مگر ابو سے آپ خود ہی بات کریں۔ امی کی جان پہ ترس کھائیں۔‘‘
فرحین نی رکھائی کا مظاہرہ کیا تھا۔ روشین ماحول کا تنائو دیکھ کر کھنکھارتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔
’’اپنی بہتر زندگی کے لیے میں ان کے آگے بھی کھڑا ہوسکتا ہوں۔‘‘ عادل نے تنتنا کر کہا۔ تو آسیہ بیگم کا دل دہل گیا۔
’’نہ میری جان۔ ایسے نہیں کہتے۔ باپ کی نافرمانی کرو گے۔‘‘
’’ان سے ریکویسٹ کروں گا امی جان کہ میں تمکین سے شادی کرنا چاہتا ہوں مائی لارڈ۔ مجھے آزادی دیں فیصلہ کرنے کی۔‘‘ وہ ٹھنڈا پڑنے لگا۔
روشنین خاموشی سے امی کے ساتھ لگ کے بیٹھ گئی۔
اپنی بزدلانہ فطرت کے مطابق آنے والے وقت کی ’’دھمک‘‘ سن کر وہ ابھی سے کانپنا شروع ہوگئی تھی۔
’’ویری گڈ……‘‘ فرحین نے سراہا۔ اور مسکراکر بولی۔ ’’اور وہ کہیں گے۔نو۔‘‘۔’’یہ میری زندگی ہے۔ اور اس کا فیصلہ میں خود کروں گا۔‘‘
عادل تلملا اٹھا۔’’کب سے سن رہی ہوں میں کہ یہ آپ کی زندگی ہے۔ ہاں۔ یہ آپ ہی کی زندگی ہے۔ مگر کبھی یہ بھی سوچ لیں کہ اس سے منسلک بھی کچھ زندگیاں ہیں۔ جن میں آپکی ماں اور بہنیں شامل ہیں۔ اور ’’آپکی‘‘ زندگی کے فیصلے جن پر اثر انداز ہوتے ہیں۔‘‘
’’تم چپ رہو۔‘‘ عادل کو اس کی بحث نے خفیف کردیا تو وہ اسے ڈانٹتے ہوئے بڑے پن کا رعب دکھانے لگا۔
’’جو چپ رہے گی زبان خنجر

لہو پکارے گا آستین کا‘‘
پھر وہی تمسخر۔ وہی استہزاء
عادل کو غصہ آنے لگا
’’دیکھ ہی رہی ہیں بیچاری اتنے سالوں سے۔ نیرنگئی حالات۔‘‘ فرحین کا اطمینان قابل دید تھا۔
آسیہ بیگم کو خفقان ہونے لگا۔
جہاں عادل کی ہٹ دھرمی انہیں خوفزدہ کرتی تھی وہیں فرحین کی زبان دل دہلاتی رہتی تھی۔ کسی کے سامنے کب کیا کہہ دے۔ کچھ پتہ نہیں چلتا تھا۔
’’بس کرو۔ خدا کے لیے تم دونوں ہی چپ ہوجائو۔‘‘
انہوں نے سر ہاتھوں میں تھاما تھا تو وہ دونوں ہی بوکھلاگئے۔
’’آپ ایسا فیصلہ کیوں کرنا چاہتے ہیں کہ جس سے اتنی زندگیاں متاثر ہوں۔‘‘
روشین بے بسی سے بولی تھی۔
درحقیقت وہ آسیہ بیگم ہی کا پر تو تھی۔ ڈرپوک اور زود رنج۔
اور ادھر عادل اور فرحین پر باپ کا سایہ پڑا تھا۔ دونوں ہی سکندر حیات کی طرح ہٹ دھرم اور ضدی طبیعت کے مالک تھے۔
’’زندگی ایک ہی بار ملتی ہے روشین۔ اور تم لوگ کیا چاہتے ہو کہ میں اس نوین کے ساتھ شادی کرکے روگ پال لوں۔ میٹرک میں دو سپلیاں لے کے جو گھر بیٹھ رہی تھی اور نت نئے فیشن کرالو اس سے یا پھر لگائی بجھائی۔‘‘
وہ جل بھن کر کہنے لگا۔
’’آپ کے نصیب۔‘‘
فرحین نے اطمینان سے کہتے ہوئے اس کا اور جی جلایا تھا۔
’’تم دیکھ لینا۔ میرے نصیب میں تمکین ہی ہوگی‘‘
of 44 
Go
 
 


Beauty Magazine | Cooking Recipies | Hamd-o-Naat | Poetry Collection | Online Urdu Novels | Mehndi Design | Indian Fashion Magazine | Weddings | Forum Nook Jhook | Women Magazine | Currency Converter | Tips (totkay) | Health | Blog| Pakistan Zindabad